بنگلورو،9؍دسمبر(ایس او نیوز)مرکزی حکومت کی طرف سے لائے گئے متنازعہ زرعی قوانین کے خلاف بھارت بند کے دوران کانگریس کے اراکین اسمبلی نے منگل کے روز ودھان سودھا اور وکاس سودھا کے درمیان موجود گاندھی مجسمہ کے پاس جمع ہو کر مرکزی حکومت کے خلاف احتجاج کیا۔اس احتجاج کی قیادت سابق وزیر اعلیٰ اور ریاستی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر سدرامیا نے کی۔
ودھان سودھا میں جاری لیجس لیچر اجلاس کے سبب اس کے حاطے میں پولیس کی طرف سے امتناعی احکامات صادر ہیں ان کے باوجود کانگریس کے اراکین نے گاندھی مجسمہ کے پاس کچھ دیر جمع ہو کر احتجاج کیا اور انہوں نے حکومت کی کسانوں پر زیادی کے حلاف نعرے لگائے اور مانگ کی کہ مرکزی حکومت کسان مخالف قوانین واپس لے۔ بتایا جاتا ہے کہ کانگریس قائدین نے جب یہاں احتجاج کرنا چاہا تو پولیس نے امتناعی احکامات کا بہانا بنا کر اس کی اجاز ت دینے سے انکار کردیا لیکن اس کے باوجود کانگریس اراکین نے اس مقام پر کچھ دیر کے لئے دھرنا دیا۔
احتجاجی اراکین اسمبلی نے مرکزی حکومت کے خلاف تختیاں دکھائیں اور سیاہ پرچم تھام کر مظاہرہ کیا۔ صبح9.30بجے ہی بیشتر کانگریس قائدین گاندھی مجسمے کے پاس پہنچ گئے۔اس مرحلہ میں پولیس نے ان قائدین کو احتجاج کرنے سے روکنے کی کوشش کی لیکن جیسے ہی سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا، رکن اسمبلی ضمیر احمد خان اور دیگر قائدین کی آمد ہوئی کانگریس کا یہ احتجاج شروع ہوا اور کچھ دیر تک ان اراکین اسمبلی نے مرکزی حکومت کے خلاف پوسٹرس اور کالی جھنڈیاں دکھائیں، نعرے لگائے اور منتشر ہو گئے۔اس احتجاج میں سابق وزراء کے جے جارج، رام لنگا ریڈی، ڈاکٹر جی پرمیشور، بی کے ہری پرساد،نارائن سوامی، یو بی وینکٹیش اور دیگر شامل رہے۔
جے ڈی ایس کا بھی احتجاج: کانگریس کی طرف سے دھرنا دئیے جانے کے بعد جے ڈی ایس کے اراکین اسمبلی نے بھی اسی مقام پر کچھ دیر کے لئے احتجاج کیا۔ اسمبلی کی کارروائی کے دوران جے ڈی ایس اراکین نے کچھ دیر کے لئے باہر آکر اس احتجاجی دھرنے میں حصہ لیا اس احتجاج میں جے ڈی ایس کے کرناٹک صدر ایچ کے کمارسوامی،اراکین اسمبلی اے ٹی رام سوامی، بی کے انا دانی، ویربھدریا، سریش گوڑا، سینکٹ رام ناڈا گوڑا، سی ایس پٹا راجو، منجو ناتھ، ماگڑی منجو، رکن کونسل بسوراراج ہوراٹی، اپاجی گوڑا، تپے سوامی اور دیگر نے حصہ لیا۔